انتظامی بے حسی، ڈرائیور مافیاز اوراہالیان چترال کا استحصال

فکر فردا
کریم اللہ
تیس اپریل دوہزار سترہ عیسوی کا وہ بھیانک صبح جبکہ اسلام آباد سے چترال جاتے ہوئے پندرہ افراد لواری میں حادثے کا شکار ہوکر اپنیkarimm جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس طرح درجنوں افراد کو ایک ساتھ اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اس سے قبل بھی لواری میں وقتا فوقتا حادثات و سانحات رونما ہوتے رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکےہیں۔ لیکن بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ ابھی تک ہم ان سانحات کو سمجھنے اور ان کی تہہ تک پہنچ کر ان کا ازالا کرنے میں یا تو مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں یا پھر ہم ایسا کرنا سرے سے چاہتے ہی نہیں۔
ایسے حادثات کی ایک عمومی وجہ یہ ہے کہ پشاور اور اسلام آباد سے چترال کے لئے گاڑیاں رات کو روانہ ہوتی ہے، اتنی طویل سفر کے دوران ڈرائیورپر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یوں گاڑی بے قابو ہو کر کسی گہری کھائی میں جاگرتا ہے۔ ایسے حادثات میں سے ننانوے فیصد ڈرائیوروں پر نیند کے غلبے کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد اور پشاور سے جو گاڑیاں رات کو روانہ ہوتی ہے ان گاڑیوں کی چھتوں میں منوں کے حساب سے سامان لاد دیا جاتا ہے تیز رفتاری اور اچانک موڑ آنے کی وجہ سے گاڑی اپنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور یوں حادثات رونما ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں سول سوسائیٹی اور بعض صحافیوں نے اس ایشو کر مسلسل اجاگر کرتے رہے لیکن انتظامیہ اور منتخب نمائندوں نے اس پر کان دھرنے کی زحمت گوارا نہ کی۔
چترال کا المیہ یہ ہےکہ نہ تو عوامی نمائندگان اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ علاقے کے مسائل بالخصوص ٹرانسپورٹر کی من مانیوں پر کسی قسم کی قانونی اقدام اٹھانے کو تیار ہے اور نہ ہی عوام منظم انداز سے احتجاج کرکے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کے عوام نان ایشوز پر بھر پور احتجاج کرتے ہیں سوشل میڈیا میں بھی طوفان برپا کیا جاتا ہے سیاسی نمائندے ایک سے بڑھ کر ایک بیان دیتے ہیں لیکن حقیقی مسائل پر بات کرنے اور ایسے مسائل کو حل کرانے کے لئے کوئی منظم کوشش نہیں ہوتی۔
ٹریفک نظام میں لاقانونیت تو سر چڑھ کر بولتے ہیں چترال میں کہیں بھی سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ضلعی انتظامیہ صرف دکھاوے کے لئے کرایہ نامہ میڈیا پر جاری کرتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کی کبھی بھول کر بھی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح پشاور اور اسلام آباد سے رات کوگاڑیاں نکلتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات حادثات رونما ہوتے ہیں۔
تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ چونکہ پشاور اور اسلام آباد سے نکلنے والی گاڑیاں اوور لوڈنگ ہو کر روانہ ہوجاتی ہے اسی لئے ڈرائیور حضرات قانون سے بچنے کے لئے رات کو مین روڈ کی بجائے پگنڈنڈیوں پر سفر کرتے ہیں اسی دوران اکثر مسافروں کو لوٹنے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ جس میں انہی اڈہ مالکان اور ڈرائیوروں کا براہ راست ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان ڈرائیوروں کے پاس روڈ پرمٹ نہیں ہوتا اس لئے رات کو مین روڈ کی بجائے چوری چھپنے سفر کرتے ہیں۔
عوام چترال کو اگر اس ذلت کے سفر سے بچنا ہے تو پھر اس حوالے سے آواز اٹھانی ہوگی۔
ہم بحیثیت مجموعی سیاسی، مذہبی، لسانی اور برادری ازم کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں ہم خود کو بڑے ہی مہذب قوم کہہ کر غیر ضروری احساس تفخر کا شکار ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہم قوم نہیں بلکہ ایک ریوڑ ہے چرواہہ جس انداز سے بھی ہمیں ہانکنا چاہے ہانک سکتے ہیں۔ اگر ہمیں ذلت ورسوائی اور اس پستی و گراوٹ سے خود کو نکالنا ہے تو سیاسی، علاقائی، مسلکی ومذہبی اور دوسرے تعصبات سے بالاتر ہوکر اپنے مسائل پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ایک سال بعد الیکشن ہونے والی ہے ہمیں ایسے لوگوں کو ووٹ دینا دینے کی ضرورت ہے جو اور کچھ اگر نہیں کرتے تو کم از کم روزمرہ کی اس ذلت سے ہمیں نکالنے کے لئے ان کے ہاں پروگرام اور منصوبہ بندی ہو۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *