این ایچ اے کی وجہ سے گھر کا چولا بُجھ گیا

Gulmit Gojalایک متاثرہ خاندان کی حکومت وقت سے اپیل ( بیوہ وپسران، محمد عبدل گلمت گوجال )
جب سانحہ عطاء آباد کے نتیجے میں بننے والی جھیل کی وجہ سے تمام املاک ڈوب گئے تو باقی بچ جانے والی زمینوں کو عارضی روڈ بنانے کے نام پر نیست ونابود کردیا گیا، پھر نیا کے کے ایچ بناکر باغات کے درختوں کو اُکھاڈ پینک دیا گیا۔ قابل کاشت زمینوں کے اوپر ملبہ ڈال کر نیا روڈکی تعمیر مکمل کیا گیا۔جنگل کو بلڈوز کرکے تباہ کردیا گیا۔ جسکی وجہ سے بہت سارے مسائل درپیش آگئے۔ اور معمولات ذندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ جن میں گندم کی قلت، لکڑ کا نہ ملنا اور میوہ جات کا ناپید ہونا شامل ہے۔ اب قرضہ لیکر آٹا، آلو، لکڑ اور میوہ جات خریدنا پڑتا ہے جو کہ پہلے ان زمینوں سے میسر تھا۔ اگر ملکوں کے درمیان تجارت اور سی پیک کے نام پر غیریبوں کے مزید غریبی میں دھکیلنا تھا این ایچ اے اور حکومت کے پاس زمینکے معاضے کیلئے پیسہ نہیں تھا تو بہتر تھا کہ کے کے ایچ کو مرمت ہی نہ کرتے۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ زمینوں کے معاضہ جلد از جلد دیا جائے تاکہ ان مسائل سے چھٹکارہ حاصل ہوسکے ، اگر نہیں تو زمینوں کو دوبارہ کاشت کاری کے قابل بنانے کیلئے ملبہ ہٹایا جائے اور روڈ کسی اور طرف سے بنایا جائے۔ درختوں کے نقصانات کا اذالہ کیا جائے اور آگ جلانے کیلئے لکڑبھی مہیا کیا جائے تاکہ خاندان کیساتھ باوقار زندگی گزار سکیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *