موسمياتی تبديلی ، گليشئرز پگھلنے سے 3 ہزار جھيليں وجود ميں آگئ ۔

Gulmit Gojal

موسمياتی تبديلی ، گليشئرز پگھلنے سے 3 ہزار جھيليں وجود ميں آگئ ۔
درجہ حرارت ميں اضافے نے جھيليں کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہيں ، نالوں اور پہاڈی علاقے متاثر ہوسکتے ہيں ۔
گلاف پراجيکٹ کے تحت گلگت بلتستان کے 10 ، کے پی کے ميں 5 اضلاع ميں آگاہی مہم شروع کی جائے گی ۔

گلگت : عالمی درجہ حرارت ميں اضافے ہونے کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصا گلگت بلتستان اور کے پی کے ميں گليشئر کے تيزی سے پگھلنے کی وجہ سے 3044 گليشئر جھيليں وجود ميں آچکی ہيں ۔ ان جھيلوں ميں 33 کو (ہزڈيس گليشئر ليک لوٹ پرسٹ فلڈنگ خطرات قرار ديا گيا ہے جوکہ کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہيں ۔ عالمی حرارت ميں اضافے سے وجود ميں آنے والے جھيلوں کے اچانک پھٹنے سے لاکھوں کيوبک ميٹر پانی کا خراج ہونے پر بڑی تعداد ميں تباہی پھيل سکتی ہے جھيلوں کے پھٹنے کے نتيجے ميں انسانی زندگی مال مويشی اور املاک کو خآطر خواہ نقصانات ہونے کے امکانات ہوتے ہيں ۔ خصوصا دور دراز پہاڑی علاقوں ميں رہنے والے لوگ زيادہ متاثر ہونگے ۔ اقوامی متحدہ کے ادارے ترقياتی پروگرام
( يو اين ڈی پی ) کے اندازے کے مطابق 70 لاکھ سے زيادہ آبادی متاثر ہوسکتی ہے ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *