لندن کو پانچ سال بعد پولوشن فری زون قرار دیا گیا جبکہ پاکستان میں قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجودکوئی پوچھ نہیں

mazameen sosttoday

دسمبر 1952ء کی صبح جب لندن میں لوگوں کی آنکھ کھلی تو انہیی دن کو بھی رات نظر آنے لگی, لوگوں نے باہر نکلنے پہ دیکھا کی عجیب

قسم کا دھواں اور رھند ہے, لوگوں کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی, اچانک لوگوں کی سانسیں رکنے لگی اور اس عجیب چیز نے لوگوں کی جانیں لینی شروع کر دی, یہ حالت لندن میں پانچ دن تک چلی جس نے 12000 سے زیادہ لوگوں کی جانیں لی, ساینسیدانوں کے ریسرچ کے باد معلوم ہوا کی یہ عجیب چیز در اصل فوگ(fog) اور سموک (smoke) کا میکسچر ہے جسے سموگ (smog) کا نام دیا گیا جو بعد میں دی گریٹ سموگ آف لندن (the great smog of london) کے نام سے مشہور ہوا. اتنے لوگوں کی جانیں چلی گیی, حکومت ء وقت ہل گیی. اگلے ہی دن تمام مسلوں کو بالایے ہ طاق رکھ کے پارلیمنٹ میں بل پاس ہوا, الودگی پھیلانے والے کارخے اور گاڈیوں پر پابندی عاید ہوی, لوگوں نے حکومت وقت کا ساتھ دیا, اس پابندی کی وجہ سے کیی سیاست دانوں کے کارخانے اور فیکٹریاں بند ہویں, مگر انہوں نے یہ قربانی خوشی خوشی دی, عوام اور حکومت کی اس کوشش کی وجہ سے لندن کو پانچ سال بعد پولوشن فری زون(pollution free zone) قرار دیا گیا, اب زرا آیے پاکستان کی طرف, قدرتی وسایل سے مالا مال. افسوس سد افسوس ہمیی اس کی قدر نہیی. موجودہ وقت میں پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ پانی کا ہے جو 2025 تک شدت اختیار کرے گی, افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس کا اندازہ ہمارے کسی حکمران اور عوام کو نہیی, وہ حکمران جن کے پیچھے باگ کر لوگوں نے آپنے دوستوں سے دشمنیاں مول لی, لوگ مرنے کو ہیں مگر مجال ہے کسی وقت کے حکمران کو فرقق بھی پڑے. الیکشن سر پر ہے مگر کبھی ہم نے غور کیا کی کسی پارٹی کے مینڈیٹ میں کسی ڈیم کا یا اس وسایل کو پچانے کا زکر بھی ہو؟ افسوس کے ساتھ نہیی. جناب جب پانی ختم ہوگا تو لوگ میٹرو اور سڑکوں کو نہیی چاٹے گی, اور پانی کا اور کویی زریہ بھی نہیی, پاکستان اس وقت صرف 30 دن کا پانی سٹور کر سکتا ہے اور ہمارا پڑوسی ملک 250 دن کا, اس سی اندازہ لگا لیں ہماری حالت کا. ہمارے سیاست دان عید تک ملک میں نہیی مناتے, زرا ان کے سر میں درد ہو, بیرون ملک جاتے علاج کی غرض سے تو مشکل وقت میں ایسے سیاست دانوں سے اپنے لوگوں کے ساتھ رہنے کی امید کیسے رکھیں؟ ایسے حالات میں ہم کیا کر سکتے؟ ہمیں بے بس نہیی ہونا, قدام اٹھانا پڑے گا, ہم آپنے روز مرہ زندگی میں کتنا پانی خرچتے ہیں؟ ہاتھ دھوتے وقت, نہاتے دانت صاف کرتے وقت, گاڑی دھوانا ہو یا ہر وہ کام جس میں پانی ضایہ ہوتا؟ اگر نہیی سوچا تو اب سوچیں, آپنے لیے اور آپنے آنے والے نسلوں کے لیے. آج اور ابھی سے اس پر کنٹرول کریں. ورنا ہمارا بھی وہی حال ہوگا کی اب پچتایے کیا ھوت, جب چڑیا چک گیی کھیت.. آپنے آنے والے نسلوں کا سوچیں, یہ کام ایک فرد سے شروع ہوگا, پھر پورا شہر, پھر صوبے اور پھر پورا ملک اس عمل کو شروع کرے تو ہم مل کر اس مسلے پر کافی حد تک قابو پا سکتے ہیں. میری اللہ کے حضور دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے, امین, کسی تحرعری غلطی کے لیے معضرت, پاکستان زنداآباد تحریر خالد حسین

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *