چترال کے بالای علاقے میں ایک ایسا پل بھی موجود ہے جو پل صراط کا منظر پیش کرتا ہے۔

chitral suspension bridge

چترال کے بالای علاقے میں ایک ایسا پل بھی موجود ہے جو پل صراط کا منظر پیش کرتا ہے۔

چترال   گل حماد فاروقی  یہ پل جوکہ پل صراط کا منظر پیش کر رہا ہے .کوشٹ میں واقع اس میں سے ننھا طالب علم جوکہ اپنی انکھوں میں مستقبل کا خواب سجاءے سکول کی طرف جا رہا ہے. یقینا اس کے والدین کا بھی یہی عظم اور خواب ہے کہ میرا بیٹا تعلیم حاصل کرے گا . اس چھوٹے سے گاءوں سے سکول جانے کا یہی واحد راستھ ہے. اس سے پہلے یہ گاءوں والے جس راستے کا استعمال کر رہے تھے وہ گزشتہ سیلاب کی وجہ تباہ ہوا تھا.اس تصویر میں یہ بھی واضح ہے کہ اس کے گھر والے کتنی پریشانی میں اپنے گوشہ جگر کو سکول بھیجتے ہیں.

    علاقے کے عوام نے ضلعی انتظامیہ اور فلاحی اداروں سے کی ہے  کہ اس پل کی مرمت کے لءے قدم اٹھاءی جاءے . تاکہ اس گا ءوں کے بچے اور دوسرے لوگ اسانی سے اس پل کراس کر سکیں. اور ناگھانی آفات سے بچ سکیں.میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ پل بمباغ آبپاشی کے لءے ایک این جی او کی جانب سے نکالی گءی تھی. جو بعد میں پانی کی وزن برداشت نہ کرتے ہوءے دریا کی نظر ہو گءے . اور بعد میں اس سے ملحقہ گاءوں والے آمد و رفت کے لءے استعمال کرنے لگے. . اس سلسلے میں براءے مہربانی پی ٹی آءی کی حکومت کو blame نہ کرنا.

اس پوسٹ کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نھیں صرف گاءوں کے لوگو ں بلخصوص طالب علموں کی علم کی راہ میں رکاوٹ سامنے لانا ہے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *