گلگت بلتستان کے علاقےبلتستان کی وادیوں میں مصنوعی گلیشیئر پالے جانے کی دلچسپ روئیداد۔۔۔ سلمیٰ اعوان

shigar baltistan google map

گلگت بلتستان کے علاقےبلتستان کی وادیوں میں مصنوعی گلیشیئر پالے جانے کی دلچسپ روئیداد۔۔۔ سلمیٰ اعوان

یہ انکشاف کس قدر تعجب خیز، کتنا انوکھا اور نرالا تھا کہ بھیڑ بکریوں اور گائے بھینسوں کی طرح بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر گلیشیئر بھی باقاعدہ پالے جاتے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال پالتو جانوروں کی طرح ہی کی جاتی ہے۔ میں تو پہاڑوں کی یہ متاع کائنات کے مالک کے ادنیٰ کرشموں میں سے ایک سمجھے بیٹھی تھی۔ پر اب جانا تھا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے تحت انسان فطرت کے ساتھ کیسے جنگ کرتاہے۔

اس وقت میں پاکستان کے جنت نظیر علاقے بلتستان کے ایک خوبصورت علاقے طورمیک کی وادی بروق میں اس سلو نے بوڑھے آدمی کے ہاں مہمان بن کر آئی تھی جس کا نام غلام حیدر تھا اور جو اس چمکتی سہ پہر کو کوٹھے کی چھت پر مجھے پولو کا میچ دکھانے لے آیا تھا۔اس کے گھر کے دروازے اس پولو گراؤنڈ کی طرف کھلتے تھے۔ جس میں زمانہ قدیم سے لے کر چند سال پیشتر تک راجہ روندو اپنے درباریوں اور پولو کے کھلاڑیوں کے ساتھ پولو کھیلتا تھا اور بروق کی خوب صورت سیرگاہ میں سیر کرتا تھا۔

آج بھی وہاں پولو کھیلا جا رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ آج کھیلنے والے والے عام لوگ تھے۔ دوپہر کا کھاناکھا کر فارغ ہوئے تھے تو کسی نے کہا۔
”آج پولو میچ ہوگا فوراً چھت پر چڑھ گئے۔ رہائشی مکانات کا سلسلہ کچھ اس طرح سے ہے کہ انہوں نے پولو گراؤنڈ کو درمیان میں لے کر اسے جدید زمانے کی اسٹیڈیم کی صورت دے دی ہے۔ کم و بیش سبھی گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں گراؤنڈ کی طرف کھلتے ہیں۔
جب کھیل شروع ہوا تو اردگرد کی چھتوں اور گھروں کے برآمدوں میں لوگ نظر آنے لگے۔ روندو کے کھلاڑی تو یوں بھی بہترین کھیل کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔پولو بے حد سنسی خیز کھیل ہے۔ایسا کہ رگوں میں جما خون تک پگھلا ڈالے۔گو اسے کھیلنے کے قواعد و ضوابط سے ابھی مکمل واقفیت نہیں ہوئی تھی۔تاہم بہت لطف اٹھایا۔

وادی بروق میں رہنے والا یہ بوڑھا جوڑا بڑا تنہا سا تھا۔ گھر کے سربراہ نے جب مجھے بتایا کہ”اس نے گلیشیئر پالے ہیں۔“
میں نے بھونچکی سی ہوکر اسے دیکھا اور بولی۔
”کمال ہے۔ یہ سچ ہے یا مذاق۔ گلیشیئر بھی کوئی کتے بلیاں یا بھیڑ بکریاں ہیں، جنہیں پالا جائے۔“
اور وہ کھلکھلا کر ہنسا اور بولا۔”یہ بھی دلچسپ کہانی ہے۔سنوگی تو لطف اٹھاؤ گی۔“

”قلان اتنی سرسبز وشاداب وادی اس وقت نہیں تھی جب میں ایک نوخیز سا لڑکا تھا۔ بلتستان چونکہ ہمالیائی سلسلے کی پیٹھ پیچھے واقع ہے۔ اس لئے یہ مون سون کی نعمت سے محروم ہے۔یہاں پانی کی قلت ہے۔ ہماری وادی بھی پانی کی کمی کے باعث کھیتی باڑی میں کفیل نہ تھی۔ یہ گرمیوں کی ایک دوپہر تھی۔ گاؤں کے نوجوان ری سیر کا پروگرام بنانے میں مصروف تھے۔ ری سیر دراصل نوجوان لڑکوں کا ایک تفریحی شغل ہے کہ جب پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں تو ہر گاؤں کے لڑک بالے مل کر پکنک منانے کے لئے وہاں جاتے ہیں۔ تین چار دن اوپر رہتے ہیں واپسی پر میندوق کا رکی دھنوں پر تلوا کے ساتھ ناچتے ہوئے آتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ پھولوں کے ہار اور گہنے بھی لاتے ہیں جو اکثر وبیشتر اپنی دل پسند لڑکیوں کو دئیے جاتے ہیں۔

گل بانو سے مجھے پیار ہی نہیں عشق تھا۔ گرمیوں کی اس دوپہر کو جب ہم سب لڑکے پہاڑوں پر جانے اور وہاں سیر وتفریح کے پروگرام ترتیب دے رہے تھے، وہ آئی تھی۔ میں نے دیکھا تھا اس کا برف جیسا سفید چہرہ چنار کے پھولوں جیسا ہو رہا تھا، اس نے بظاہر بقیہ لڑکوں کو حقیقتاً مجھے سناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
”وادی خشک ہے۔ اس کا ایک ایک پودا اور بوٹا پانی مانگتا ہے۔ جو پانی ادھر ادھر سے آتا ہے وہ اس کے لئے ناکافی ہے۔ بوڑھے تو ڈوگروں سے جنگ کرتے کرتے پست ہمت ہو گئے ہیں اور تم نوجوان لوگوں کو سیر سپاٹوں سے فرصت نہیں۔ بتاؤ وادی آب ودانہ میں کیونکر کفیل ہو۔ کیا تم لوگ اپنے آباؤاجداد کی طرح مصنوعی گلیشیئر نہیں پال سکتے؟ پال تو سکتے ہو پر ہڈ حرام ہو گئے ہو۔“

یہ بہت بڑا حملہ تھا جوان نسل کی عزت نفس اور پندار غرور پر۔
بس تو سب اٹھ گئے تھے۔ کہاں کی سیر اور کہاں کے پروگرام سب ختم ہوئے۔ اب ٹولہ اس جگہ کا متلاشی ہوا جہاں گلیشیئر پالا جائے اور اس سے ساری بستی فائدہ اٹھائے ،جگہ کا انتخاب ہوا۔ قدیم ترین گلیشئیروں کے بارے میں بوڑھوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے دو باتوں کی تاکید کی، آج بھی جب یاد کرتا ہوں تو چھغو آتا روزی خان کی باتیں کانوں میں گونجنے لگتی ہیں۔
بچہ نیا خون ہے تمہارا مجھے امید ہے پرانے گلیشیئروں سے منوں وزنی یخ کے ٹکڑے لانے میں تمہیں تھکاوٹ تو محسوس نہیں ہوگی۔ لیکن ہوئی تو سستانا نہیں۔ ایک پل کے لئے کسی جگہ رکنا بھی نہیں بس چلتے رہنا ہے مسلسل۔
”دوسرے بچہ! ہونٹوں کو بند رکھنا ہے۔ تم لڑکے بالے ہنسی مخول سے نہیں رکتے ہو۔ پر یاد رکھنا یخ لانے کے عمل میں بات چیت منع ہے۔“

میں ذرا منہ پھٹ قسم کا نوجوان تھا۔ بول اٹھا تھا۔ چھغو آتا! بھلا بولنے سے کیا ہو جائے گا؟ اور چھغو آتا روزی خان نے میری بات کابرا مانتے ہوئے کہاتھا۔
بچہ بحث کی کیا با ت ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آزمانا چاہتے ہو آزما لو گلیشیئر کبھی پھل پھول گیا تو روزی خان کا نام بدل دینا۔
تیسر ی تاکید او راحتیاط جو ہوئی وہ یہ تھی کہ یخ کم از کم دو مختلف الجنس یعنی نرومادہ، گلیشیئروں سے علیحدہ علیحدہ لا نا لازمی ہے۔ انہوں نے نر ومادہ گلیشیئروں کی نشا ندہی بھی کر دی تھی۔
چلتے چلتے انہو ں نے ہمیں یہ بھی کہا تھا۔ بچو خیال رکھنا یخ کے بوجھ کی تعداد کو بھی دونوں جنس کے گلیشیئروں سے طاق عدد میں لاناضروری ہے۔

مجھے کچھ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے گل بانو نے مجھ سے جانے کس جنم کا بدلہ لیا ہے۔ مگر اب تو اوکھلی میں سردے دیا تھا۔
نر اور مادہ گلیشیئروں سے منوں وزنی بر ف کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر لانے میں کس قدر دشواری ہوئی تھی۔ یہ یقیناً بتانے والی بات نہیں۔ دو ماہ اس کام میں لگ گئے۔ یخ کو دبانے کے لئے جب ہم نے پہاڑوں پر گڑھے کھودے تھے۔ میرا ساتھی حسین بولا تھا۔
”اگر ان گڑھوں سے کہیں سونا نکل آئے تو ہم کتنے امیر ہو جائیں۔“
اور علی کاظم نے جواباً حسرت سے کہا تھا۔
”تو سمجھتا ہے ہم اتنے نصیب والے ہیں۔ ارے ہمارے مقدروں میں مزدوریاں ہیں، مزدوریاں۔“

یخ کو گڑھے میں دبانے کے بعد اس پر منوں کی تعدا د میں کوئلہ اور بھوسہ ڈالا تھا۔ اس کے اوپر ایک جھونپڑی بنائی تاکہ دبی ہوئی برف پر ہمہ وقت سا یہ رہے۔ جب تک گرمیاں رہیں ہم مشکیزوں میں پانی بھر بھر کر اس پر یوں رکھتے کہ قطرہ قطرہ نیچے ٹپکتا رہے۔ جب برف باری کا موسم ہوا تو گزوں کے حساب سے کچی برف لا کر اس پر ڈالی۔ چار سال تک میں نے اور میرے ساتھیوں نے اس گلیشیئر کی یوں دیکھ بھال کی جیسے ما ں اپنے پہلوٹھی کے بچے کی کرتی ہے۔ہر چار ماہ بعد ہم یہ جاننے کے لئے مرے جاتے کہ یہ اب جڑیں مضبوط کر بیٹھا ہے اور بڑھنے اور پھیلنے کا عمل شروع ہوگیا ہے یا نہیں۔

پتہ نہیں کہ ہماری حددرجہ مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ تھا یا ہماری دعاؤں کا اثر تھا کہ وہ مصنوعی گلیشیئر اتنا پھیلا کہ قدرتی گلیشیئروں کو مات دے گیا۔قلان کی سرسبز وادی اس کی مرہون منت ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *