حکومت جان بوجھ کر معاملے کو طول دینا چاہتی ہے، مسئلہ حل نہ ہوا تو رمضان المبارک کے بعد خنجراب پاس کی جانب لانگ مارچ کرینگے :تاجران گلگت بلتستان

۔ پاک چین بارڈر سوست پر گلگت بلتستان کے تاجروں کا دھرنا 12ویں روز میں داخل ہوگیا، لیکن حکومت کی جانب سے تاجروں کے مطالبات پر غور کیلئے ابھی تک کوئی رابطہ ہی نہیں کیا گیا، حکومت کی معنی خیز خاموشی نے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا ہے، وہاں تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں شدید گرمی میں روزہ کی حالت میں تاجر گذشتہ 12 روز سے سی پیک روٹ پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، جبکہ چین سے سرحدی تجارت گذشتہ 2 ماہ سے بند ہے، جس کی وجہ سے تاجروں کے ساتھ قومی معیشت کو بھی نقصان ہو رہا ہے، تاجروں کے دھرنے میں گلگت بلتستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی قائدین بھی شریک ہیں۔ دوسری جانب گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر معاملے کا طول دینا چاہتی ہے، کیونکہ گذشتہ بارہ دنوں میں کسی نے رابطہ تک نہیں کیا۔ تاجروں نے عید کی نماز بھی سوست بارڈر پر ادا کرنے کے ساتھ رمضان کے بعد خنجراب پاس کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے سوست ڈرائی پورٹ پر کسٹم کلیئرنس کا نیا سسٹم "وی بوک" لاگو کرنے، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولی کیخلاف سوست میں سی پیک روٹ پر گذشتہ بارہ دنوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں،  تاجروں کا موقف ہے کہ ایک متنازعہ علاقے میں کسی بھی قسم کا ٹیکس غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *